بنگلورو،28؍دسمبر(ایس او نیوز) بنگلور اور میسور کے درمیان دس لائن پر مشتمل قومی شاہراہ کی تعمیر کا کام 15جنوری سے شروع ہوجائے گا۔یہ اعلا ن آج وزیر برائے تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا نے کیا۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کل وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کے ہمراہ مرکزی وزیر برائے بر ی نقل وحمل نتن گڈکری سے ملاقات کے دوران بنگلور میسور شاہراہ کو دس لائن شاہراہ کے طور پر ترقی دینے اور اس شاہراہ کے لئے چن پٹن کے قریب درکار جنگلاتی زمین اکوائر کرنے کے متعلق 10جنوری کو میٹنگ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ 15جنوری سے اس شاہراہ کی تعمیر کاکام مکمل طور پر شروع کردیا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے محکمۂ جنگلات سے اس سلسلے میں منظوری دلانے کا تیقن دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہبلی میں چھ لائن شاہراہ کی تعمیر کی ایک تجویز بھی مرکزی حکومت کو پیش کی گئی ۔اس منصوبے کے تحت نول گند۔نرگند روڈ کی ترقی ، ہبلی میں بالائی سڑک کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ پورا منصوبہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے اشتراک سے آگے بڑھایاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ میسور اور مرکیرہ کے درمیان شاہراہ کی ترقی کے ساتھ چارمڑی گھاٹ کی توسیع کے لئے 250کروڑ روپیوں کی لاگت پر کام جلد شروع کردیا جائے گا۔اس کے علاوہ کیرلا کے کنور سے چن رائے پٹن تک سڑک کی توسیع کے لئے چھ سو کروڑ روپیوں کی لاگت پر مشتمل ایک منصوبہ منظوری کے لئے مرکزی حکومت کو پیش کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ شراڈی گھاٹ میں چار میل پر مشتمل 21کلومیٹر طویل سرنگ کی تعمیر کا منصوبہ بھی مرکزی حکومت کو سونپا گیا۔ ریونا نے بتایاکہ بنگلور میسور بائی پاس روڈ پر کام شروع ہوگیا ہے۔ ہر 20کلومیٹر کے فاصلے پر ایک کیمپ کے حساب سے گیارہ کیمپ بنائے گئے ہیں۔ وزیر موصوف نے بتایاکہ بیدر، کلبرگی، ہاسن، شیموگہ اور کوپل میں ایرپورٹ کی تعمیر کے لئے ریاستی حکومت نے مرکز کو تجویز پیش کی ہے، ان میں سے تین ایرپورٹوں کے لئے ٹنڈر طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ مرکزی وزیر ریلویز پیوش گوئل سے ملاقات کرکے شہر میں مضافاتی ریل خدمات جلد شروع کرنے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ساتھ ہی چکمگلور ، شرنگیری ، شیموگہ روٹ پر ٹرین خدمات شروع کرنے پر زور دیاگیا۔